اسلامیہ کالج پشاور

اسلامیہ کالج پشاور

اسلامیہ کالج پشاور

ہندوستان کے مسلمانوں میں انگریز سرکار کے دور کے اندر جن اداروں نے ایک نئی روح پھونک دی اور ان کو ان کے حقوق کی حفاظت کرنے کا احساس دلایا ان اداروں میں ایک معتبر نام اسلامیہ کالج پشاور کا بھی ہے۔ کوہ سفید اور تاریخ درہ خیبر کے دامن میں واقع اسلامیہ کالج پشاور، پشاور صدر سے پانچ کلومیٹر مغرب میں جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ 121 ایکڑ اراضی پر مشتمل یہ کالج جنگِ عظیم اول سے ایک سال قبل 1913ء میں قائم کیا گیا۔

 اس کی بنیاد صاحبزادہ عبد القیوم خان اور سر جارج روس کیپل نے رکھی۔ یہ کالج جس جگہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ کے حوالے میں معلوم ہوا ہے کہ اس مقام پر آج سے تقریباً 1800 سال قبل 200ء میں بدھ مت کی تعلیمات کے لیے ایک بہت بڑی خانقاہ موجود تھی۔ اس وقت کشان خاندان کا راجا کنشکا یہاں پر بر سر اقتدار تھا۔

بعض مغربی محقیقن کے مطابق اسلامیہ کالج پشاور اور گورڈن کالج خرطوم کی تاریخ اور کارکردگی میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامیہ کالج پشاور، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور دارالعلوم دیوبند کا ایک حسین امتزاج ہے۔

 اگر ایک طرف سر صاحبزادہ عبد القیوم خان اس کالج کے روح رواں تھے جو سرسید کے مسلک اور تحریک علی گڑھ کے زبردست حامی تھے تو دوسری طرف کالج کی مسجد اور اسلامیہ کالجیٹ اسکول کا سنگ بنیاد 1912ء میں حاجی صاحب ترنگزئی پیر مولانا دوست محمد بارکزئی صوابی حاضنے اپنے دست مبارک سے رکھا۔ حاجی صاحب ولی اللہمی مسلک کے پروکار تھے۔۔ اور جنھوں نے مولانا محمود الحسن صدر مدرسہ، دیوبند کے ایماء پر انگریز سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔

اگر اسلامیہ کالج پشاور کے کردار کا غور سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جو خدامات اور کارنامے علی گڑھ اور دیوبند مکاتب فکر نے مشترکہ طور پر ادا کیے ہیں۔ وہی سب کچھ اسلامیہ کالج پشاور نے اکیلے سر انجام دیا ہے۔ کیونکہ یہاں جدید علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کا بطریق احسن اہتمام کیا جاتا ہے۔ نواب سر صاحبزادہ عبد القیوم خان علی گڑھ مکتب فکر سے حد درجہ متاثر تھے۔ یہ آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ انگریز سرکار نے صوبہ سرحد کو اس فہرست میں شامل کیا۔ جن جن صوبوں میں وہ اصلاحات نافذ کرنا چاہتی تھی۔ 

نواب صاحب صدقِ دل سے چاہتے تھے کہ صوبہ سرحد جو بیس کی دہائی میں ’’سرزمین بے آئین ‘‘ اور پوڈر میگزین‘‘ جیسے ناموں سے یا کیا گیا۔ ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کی صف میں شامل ہو جائے۔ اسلامیہ کالج پشاور صوبہ سرحد کا وہ شمع فروزاں ہے جس نے صوبہ سرحد، اس سے ملحقہ قبائلی علاقے اور افغانستان کو علم کی روشنی سے منور کیا۔ اور ایسے عظیم راہنماؤں کو جنم دیا جنھوں نے عہد غلامی میں مسلمانانِ ہند کی راہنمائی کا عظیم ترین فریضہ سر انجام دیا۔

تحریک آزادی

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اسلامیہ کالج لاہور اور سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی کی طرح تحریک آزادی اور قیام پاکستان کے سلسلے میں اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ نے بھی زریں باب رقم کیے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب مسلمانان ہند نے خلافتِ عثمانیہ کو بچانے اور ترکوں کے یے ایک باعزت سمجھوتہ کرانے کے لیے تحریک خلافت شروع کر دی۔ 

تو اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ اس تحریک میں پیش پیش رہے اس تحریک سے قبل بھی ترکوں کی مالی معاونت کے لیے جو مہم چلائی گئی تھی اس میں بھی اس کالج کے طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تحریک خلافت کے دوران جب تحریک ہجرت چلی اور ایک اندازے کے مطابق ستر ہزار مسلمانوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر افغانستان کو ہجرت کر دی۔ تو اس ہجرت کی تحریک میں اسلامیہ کالج پشاور کے کئی طلبہ مہاجرین کے ہمرکاب رہے۔ 

طلبہ کی انہی سرگرمیوں اور عدم تعاون کی تحریک کی وجہ سے 1920ء میں انتظامیہ کو چند دن کے لیے کالج بند کرنا پڑا۔ اس سے قبل بھی 1919 ء میں تیسری اینگلو افغان جنگ کی وجہ سے بھی کالج کو تین ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ جس دوران ہاسٹلوں میں مقیم طلبہ کو شاہی مہمان خانہ پشاور میں منتقل کر دیا گیا۔

خیبر یونین

اسلامیہ کالج پشاور
اسلامیہ کالج پشاور

اسلامیہ کالج کی تاریخ خبیر یونین اسلامیہ کالج کے تذکرے کے بغیر نامکمل رہے گی۔ بنیادی طور پر یہ Debating Society تھی۔ اس انجمن نے اسلامیہ کالج پشاور کو عالمگیر شہرت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

1922ءسے 1962ء کے درمیان خبیریونین اسلامیہ کالج پشاور نے کئی ملکی اور غیر ملکی اہم شخصیات کو تاحیات اعزازی ممبر شب دی ہے۔ ان شخصیات میں سرمیاں محمد شفیع، نواب سر صاحبزادہ عبد القیوم خان، سر شجاع الملک، مہتر چترال، شاہ ولی خان، اعظم جاہ، شہزادہ حیدرآباد دکن، معظم جاہ، شہزادہ دکن، اولف گرفتھ، گورنر صوبہ سرحد، خالد ادیب خانم ترکی ادیبہ، قائداعظم محمد علی جناح، جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، محمد نصیر الملک، مولانا عبد الکلام آزاد، حمید اللہ خان نواب آف بھوپال، جارج کنھنگم، صدیق محمد خان عباسی، سردار عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین، محمد رضا شاہ پہلوی، مسز ایلنیز روزویلٹ، سردارعبدالرشید، قربان علی خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے نام قابل ذکر ہیں۔

Now or Never لندن خیبر یونین

اسلامیہ کالج پشاور کے چند فارغ التحصیل طلبہ نے 1933ء میں لندن میں لندن خیبر یونین قائم کی۔ پردیس میں یہ خبیر یونین اسلامیہ کالج کی ایک برانچ تھی۔ اسلامیہ کالج پشاور سے فارغ التحصیل طلبہ کے علاوہ لندن میں مقیم تمام ہندوستانی اس یونین کے ارکان بن سکتے تھے۔ بنیادی طور پر یہ ڈبیٹنگ سوسائیٹی تھی۔ 1930ء میں گول میز کانفرنس کے آغاز کی وجہ سے اس کی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور ہندوستان کا مستقبل یونین کے تمام اراکین کی سوچ کا محور بن گیا۔

 1933ء میں جب چوہدری رحمت علی نے لفظ پاکستان مرتب کیا۔ اوراسے اپنے پمفلٹ Now or Never میں شائع کیا۔ تو اس پمفلٹ پر رحمت علی کے علاوہ پاکستان نیشنل موومنٹ کے تین اور سرگرم کارکنوں کے دستخط تھے۔ جن میں صوبہ سرحد سے جناب اسلم خٹک اورجناب عنایت اللہ خان آف چارسدہ اسلامیہ کالج پشاور کے فارغ التحصیل طلبہ تھے۔ اور یہ دونوں بالترتیب خیبر یونین لندن کے صدر اور سیکرٹری تھے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ لندن خیبر یونین نے پاکستان نیشنل موومنٹ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لے ایک ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ برطانوی ہند میں 1937ء کےانتخابات کے بعد بانی اسلامیہ کالج پشاور سر صاحبزادہ عبد القیوم خان کو صوبہ سرحد کے پہلے وزیراعلٰی بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

قائد اعظم اور اسلامیہ کالج

اسلامیہ کالج پشاور
اسلامیہ کالج پشاور

قائد اعظم اپنی پوری زندگی میں تین مرتبہ صوبہ سرحد تشریف لائے۔ آپ نے یہ دورے بالترتیب 1936ء، 1945ء اور 1948ء میں کیے۔ ہر مرتبہ آپ نے پشاور میں قیام کے دوران اسلامیہ کالج پشاور کو دیکھنے اور طلبہ سے خطاب کرنے کے لیے وقت نکالا۔

1945ء میں جب آپ کالج میں ایک جلسے کی صدارت کر رہے تھے تو سرحد مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری محمد طہماسب نے طلبہ کی طرف سے آٹھ ہزار روپیہ پیش کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا :

’’قائد اعظم ہم آج آپ کو آٹھ ہزار روپیہ پیش کر رہے ہیں۔ اگلی بار جب آپ تشریف لائیں گے تو ہم آپ کو آٹھ ہزار جوان پیش کریں گے۔ جو مادر وطن کی آزادی پر قربان ہوں گے۔ ‘‘

یقیناً یہی وہ جذبہ تھا جس نے پاکستان کی منزل قریب سے قریب تر کر دی۔ اسلامیہ کالج پشاور سے قائد اعظم کی عقیدت اور دلی محبت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 1939ء میں آپ نے ایک وصیت کے ذریعے اپنی ذاتی جائداد برصغیر کے تین مسلم درسگاہوں کے لیے وقف کیا تھا۔ ان درسگاہوں میں مسلم یونیورستی علی گڑھ، اسلامیہ کالج پشاور اور سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی شامل ہیں۔ قائد اعظم کی وصیت کے مطابق قائد اعظم ٹرسٹ سے اسلامیہ کالج پشاور کو 14 اپریل 1998ء تک اپنے حصے کی رقم ایک کروڑ آٹھ لاکھ گیارہ ہزار چھ سو روپیہ موصول ہو چکے ہیں۔

ریفرنڈیم اور اسلامیہ کالج

3 جون 1947ء کے منصوبے کے مطابق 1947ء میں صوبہ سرحد میں پاکستان کے سوال پر ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔ یہ صوبہ سرحد کے عوام کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی۔ مگر صوبہ سرحد کے عوام نے اس تاریخی موقع پر پاکستان کے حق میں فیصلہ دے کر جس بصیرت کا ثبوت دیا ہے اس پر ہمیں کل بھی فخر تھا اور آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس ریفرنڈم میں اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ کے کردار کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ طلبہ کے اس کردار کو سراہتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے 12 اپریل 1948ء کو اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

“On this occasion the thing uppermost in my mind is the help that came for the movement and achievement of Pakistan from the student community, particularly from the province. May I say that you played your part magnificently.”

قیام پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کے سلسلے میں بھی اسلامیہ کالج سے فارغ التحصیل طلبہ کا کردار بڑا شاندار رہا۔ اسلامیہ کالج پشاور میں سب سے پہلے رجسٹرڈ ہونے والے طالب علم صاحبزادہ خورشید صوبہ سرحد کے پہلے گورنر بنے۔ اسی طرح 17 اگست 1988ء تا 17 جولائی 1993ء تک پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان بھی اسلامیہ کالج پشاور کے مایہ ناز طالب علم رہے۔

حال

اسلامیہ کالج پشاور نے ابتدا سے لے کر آج تک تعلیم کے میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج کی پشاور یونیورسٹی۔ یو ای ٹی پشاور، زرعی یونیورسٹی پشاور، خیبر میڈیکل کالج پشاور۔ جناح کالج برائے خواتین پشاور یونیورسٹی، قائداعظم کالج آف کامرس پشاور، کالج آف ہوم اکنامکس برائے خواتین پشاور یونیورسٹی، لا کالج پشاور یونیورسٹی اور پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ پشاورتمام اسلامیہ کالج پشاور ہی کی پیداوار ہیں۔ 

ہزاروں کی تعداد میں اسلامیہ کالج پشاور سے فارغ التحصیل طلبہ آج اندرون خانہ اور باہر ملک و قوم کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔ اسلامیہ کالج کی عمارت فن تعمیر کا ایک نمونہ ہے۔ اس کی تصویر پاکستان کے 100 روپئے کے پرانے نوٹ پر بھی موجود ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نئے کرنسی نوٹوں میں اسے 100 کی بجائے ایک ہزار روپئے کے نوٹ پر جگہ دی گئی ہے

حال ہی میں اسلامیہ کالج پشاور میں انگریزی، باٹنی، تھیالوجی کے مضامین میں پوسٹ گریجویٹ کلاسوں کا اجرا ہوا۔ دیگر مضامین میں بھی یہ سلسلہ عنقریب شروع ہونے والا ہے۔ اور وہ دن دور نہیں جب اسلامیہ یونیورسٹی کے نام سے ایک نئی یونیورسٹی صوبہ سرحد میں قائم ہو جائے گی۔ ہم بجا طور پر اس مینارہ نور پر فخر کرتے ہیں۔ اس کی عظمت کو سلام کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ غیور عوام کا یہ ادارہ ہمیشہ ہمیشہ ملک و قوم کی خدمات میں سربلند رہے۔ آمین

Leave a Comment