رشتے

رشتے اعتماد سے چلتے ہیں

رشتے اعتماد سے چلتے ہیں

چاچا فیکے کی حویلی ہماری حویلی سے کچھ فاصلے پر هے..چاچا عمر رسیدہ تجربہ کار مشفق انسان هے…میری چاچے کے ساتھ بہت  دوستی تهی..اکثر عصر کے بعد چاچے کی حویلی چلا جاتا …جہاں چاچا حقہ گڑگڑا رهے هوتے..چاچے کے پاس اس کی دلچسپ باتیں پرانے قصے کہانیاں مجهے کهینچ کر لے جاتی. …کبهی کبهی چاچا اپنے تجربے کی روشنی میں بڑے کام کی باتیں بتاتا…

فرسٹ ایئر کی بات ہے گرمیوں میں ایک دن عصر کے وقت چاچے فیکے کی حویلی گیا..چاچا حقہ تازہ کر کے بڑے خوشگوار موڑ میں بیٹها تها..سلام دعا کے بعد چاچے نے … چاچی کو آواز دی میرے پتر لئی چاہ بناو…

باتوں باتوں میں زکر پسند کی شادی کا چهڑ گیا..پسند کی شادی  سے بات رشتوں کی طرف چل نکلی ..کہ رشتے کیسے نبهتے یا نبهائے جاتے ہیں..

میں نے کہا …”چاچا …اپنے تجربے کی بنیاد پہ زرا میاں بیوی کے رشتے پہ روشنی ڈالو…چاچی کے ساتھ کا کبهی جھگڑا نہیں هوا آپ کا …مار کٹائی تو دور کی بات ..آپ نے چاچی کو گالی بهی کبهی نہیں دی…دوسری طرف روز کوئی نہ کوئی اپنی بیوی کو مار رہا هوتا هے ..گالیاں جھگڑے اور بات طلاق جا پہنچتی هے..آجکل تو حد هو رہی هے پسند یا محبت کی شادی کرتے ہیں اور دو مہنے بعد طلاق…آخر یہ کیوں هو رہا هے اور آپ نے کیسے ساری زندگی محبت میں گزار دی…زرا یہ گر مجهے بهی بتا دیں..؟؟؟

چاچا فیکا میری بات اور سوالات سن کر کچھ دیر خاموش رہا پهر حقے کا لمبا کش لے کر یوں گویا هوا!!!..

“پتر رشتہ کوئی وی هو ساری گل اعتماد کی هے یقین کی، بھروسے کی هے..برداشت کی…جب یقین بھروسہ یا اعتماد کی جگہ شک لے لے تو رشتہ کچی تند کی طرح ہلکے هوا کے جھونکے سے بهی ٹوٹ جاتا هے…””

چاچا موڈ میں تها اور مجهے کرید کر سوال کرنے کی عادت ..میں نے  پهر سوال کیا..

“چاچا یہ بات تو سبھی جانتے ہیں. .لیکن آجکل جو رہا هے..اسکا مطلب یہ لوگ ایک دوسرے پہ اعتماد نہیں کرتے” ؟؟؟

چاچے نے پهر ایک حقے کا کش لیا اور بولا…”چل تجهے پهر اپنی زندگی کی کہانی سناتا هوں ترے کام آئے گی..نالے تو پوچھ رہا تها نا تری چاچی اور میں لڑتے کیوں نہیں …زرا غور سے ساری کہانی سننا..آپ کو بات سمجھ آ جائے گی.. 

پتر جی لوگ کیا کر رهے ہیں یا کیا کرتے ہیں مجهے نہیں معلوم میں اپنا بتا دیتا هوں.. میں نے کیا کیا اور ابهی تک کس اصول پہ کارفرما هوں..جس کی وجہ سے رشتہ خوبصورتی سے چل رہا ہے. .

میرے ابا اور تری چاچی کے ابا بہت اچهے دوست تهے..میں جب  جوان هوا تو  کبهی سوچا نہ تها تری چاچی  سے میری شادی هو گی ..ایک دن ابا اپنے دوست سے ملنے گئے تو وہ بہت پریشان تهے…ابا کے پوچهنے پہ اس نے بتایا …  اس کی بیٹی اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی هے..لیکن جس لڑکے سے کرنا چاہتی هے..وہ ایک نمبر کا لفنگا اور بدمعاش هے..میں اپنی بیٹی اس سے بیاہ کر اسے ڈوب نہیں سکتا ..اس لڑکے نے رشتہ کے لیے اپنی ماں کو بهیجا تها میں نے صاف انکار کر دیا..یہ بات سنا کر میرے سسر نے ابا سے کہا تم میری بیٹی کو بچا سکتے هو اگر چاہو تو؟؟ ..

ابا نے کہا نے… وہ کیسے؟ ؟؟تو اس نے کہا…اپنے بیٹے فیکے کے لیے رشتہ لے لو..اچهے وقت تهے دوستی نبهانے کے لیے ہر قربانی دینا اس دور میں فخر سمجها جاتا تها..ابا جی میرا رشتہ پکا کر کے شادی کی تاریخ لے کر گهر آ گئے ..  دوست کی مشکل آسان کر دی..

پورے رسم و رواج کے ساتھ تیری چاچی کو ڈولی میں بیٹها کر اپنے گهر لے آیا…مجهے پتا چل چکا تها کہ اصل معاملہ هے کیا…کیوں اتنی جلدی میں شادی هوئی هے. ..لیکن ابا  کی دی هوئی زبان کا بهرم رکهنا تها ، اس لیے لب سی لیے…

دل میں عجیب عجیب خیال آ رهے تهے…جس لڑکی کو بیاہ کر لے آیا هوں وہ تو کسی اور کو چاہتی هے..کیا وہ اپنے دل سے پرانی محبت نکال سکے گی؟؟ ..کیا مجهے اپنے دل میں جگہ دے سکے گی؟؟..

سہاگ رات کمرے میں داخل ہونے تک یہی سارے سوال میرے دماغ میں ایک طوفان بن کر چل رہے تهے…کمرے میں داخل هونے سے پہلے میں ایک فیصلہ کر چکا تها…ایک راہ چن چکا تها…کمرے میں جا کر سلام بلا کر تری چاچی سے چند باتیں کی ..جن پر میں آج بهی قائم هوں..

میں نے کہا…”کرماں والیئے اب تو میری بیوی هے..ہم زندگی کے نئے سفر کا آغاز کر رهے ہیں…میں نہیں جانتا تیری زندگی میں پیچهے کیا تها تیرے دل میں کون تها اور نہ ہی کبهی یہ سوال دوبارہ پوچهو گا..مجهے یہ سب جاننے کی ضرورت بهی نہیں هے…ہاں کچھ باتیں کہنا چاہتا هوں.

.میں آج سے تم پہ بے پناہ اعتماد اور یقین کرتا هوں تم میری بیوی هو میری عزت هو غیرت هو سب کچھ هو…اب تیرے دل میں میرے سوا کوئی نہیں میرے دل میں تیرے سوا کوئی نہیں. ..مجهے یقین هے تم میرے اعتماد کو کبهی ٹهیس نہیں پہنچاو گی..میں کبهی اپنے پیار میں کمی نہیں آنے دوں گا…میں بنا سوچے سمجھے اتنا اعتماد کر رہا هوں امید هے تم میرا مان نہیں توڑو گی”..

پتر میرے پاس اس وقت دو راستے تهے ایک شک کا اور دوسرا اعتماد کا …میں نے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے شک کو باہر پھینکا اور  اعتماد ساتھ لے کر اندر چلا گیا…اس رات کے بعد سے آج تک کبهی کچھ نہیں پوچها نا کبهی اس واقعے کا زکر کیا…بلکہ بے پناہ پیار محبت اور عزت دی… واپسی کا  تقاضہ بهی نہیں کیا..دل میں کبهی شک کو پھٹکنے نہیں دیا..

.آج تک اپنے کیے قول پہ ڈٹا هوا هوں…یقین اعتماد اور پیار کو اس عروج پہ لے کر آیا کہ ..تری چاچی اس آوارہ کو کیا  اس کا نام بهی بهول گی..چار بچے ہیں..کبهی لڑائی نہیں هوئی..زندگی کے ہر موڑ پہ اس نے میرا ساتھ دیا…روکهی سوکهی کها کر گزرا کیا…عمر کے اس حصے میں وہی پیار وہی چاہت اور اعتماد برقرار هے..

میں بهی اس وقت اعتماد کی جگہ شک کی طرف چل پڑتا تو ایک مہنے بعد طلاق هو جاتی ..

پتر جی اعتماد پیار اور عزت کسی بهی رشتے کو چلانے کے لیے بہت ضروری چیزیں ہیں…ان کی اہمیت میاں بیوی کے رشتے پہ آ کر اور بڑهتی هے…یقین اور اعتماد کو اس بلندی پہ لے جاو کہ اگلا بندہ اس کے پاس رکھنے پہ مجبور هو جائے ..اس کو لگے کہ ٹهیس پہنچی تو موت هو گی…یہی گر هے یہی طریقہ هے .عورت پہ اعتماد کرو اسے محبت دو اور خاص کر عزت زیادہ دو تو عورت تمہاری. .شک کرو گے، دباؤ گے، مارو گے ..روز جھگڑا کرو گے..وہ جسمانی طور پہ تو شاید تمہاری هو، روحانی طور پہ قطعی نہیں. ..

رشتے اعتماد سے چلتے ہیں
رشتے اعتماد سے چلتے ہیں

پتر جی رشتے اعتماد سے چلتے ہیں..

رشتے

Leave a Comment