مصر کی ایک معلمہ کا واقعہ

مصر کی ایک معلمہ کا واقعہ 

مصر کی ایک معلمہ کا واقعہ 

وہ معلمہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتی تھی کہ قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق زندگی گزاریں 

“وَعَجِلتُ اِلَیکَ رَبِّ لِتَرضٰی”(سورۃ طٰهٰ۔85)

ترجمہ

(اے پروردگار میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تا کہ تو خوش ہو)

وہ کہا کرتی تھیں کہ میں اس آیت سے بہت متاثر ہوں جب بھی میں اذان کی آواز سنتی ہوں اور اگر میں کسی بھی کام میں مصروف ہوں، میں اپنے آپ کو یہ آیت یاد دلاتی ہوں اور سب کچھ چھوڑ کر نماز ادا کرنے کھڑی ہو جاتی ہوں رات کو 2:00بجے جب تہجد کا الارم بجتا ہے اور میں گہری نیند میں مزید سونا چاہتی ہوں تو یہ آیت مجھے یاد آتی ہے اور مجھے جگاتی ہے. 

اس خاتون کے شوہر کی عادت تھی کہ کام سے واپس گھر آتے وقت وہ اسے فون پر کھانے کے متعلق ہدایات دیتا تا کہ اس کے گھر پہنچنے پر گرما گرم کھانا تیار ملے اور وہ کھانا کھا کر سو جائے. ایک دن اس نے فون پر مہشی کھانے کی فرمائش کی (انگور کے پتوں میں چاول بھرے جاتے ہیں اور پھر ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھا جاتا ہے بہت وقت طلب ڈش ہے) اتنی دیر میں اذان کی آواز سنائی دی تو اس کے صرف تین رولز رہ گئے تھے (جن کے بھرنے میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگتے) لیکن اس نے حسب عادت سب کام چھوڑے اور نماز ادا کرنے کھڑی ہو گئی،

اس خاتون کا شوہر اسے بار بار فون کرتا رہا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا جب وہ گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی سجدے میں ہے اور کھانا ابھی تک تیار نہیں ہے

اس نے دیکھا کہ صرف تین رولز بھرنے رہ گئے ہیں تو اسے شدید غصہ آیا اور اسی غصے کے عالم میں اس نے اپنی بیوی کو ڈانٹنا شروع کر دیا “تم اپنا کام ختم کر کے دیگچی چولہے پر رکھ کر بھی نماز ادا کر سکتی تھی، تین رولز بنانے میں کتنی دیر لگتی ہے”،لیکن اس کی بیوی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا جب وہ اس کے پاس آیا تو دیکھا کہ سجدے کی حالت میں اس کا انتقال ہو چکا ہے. 

سبحان الله اگر اس نے ہماری طرح یہ سوچا ہوتا کہ چلو کوئی بات نہیں پہلے اپنا کام ختم کر لیتے ہیں پھر نماز پڑھ لیں گے تو اس کا انتقال کچن میں ہوتا. لیکن ایک شخص کا انتقال اسی حالت میں ہوتا ہے جس پر وہ ساری زندگی گزارتا ہے اور اسی حالت میں وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا. ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر شخص اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس میں وہ فوت ہوا 

…آئیے آج ایک عہد کریں…

بہنوں_کےلئے: جیسے ہی اذان کی آواز سنائی دے سب کام ایک طرف رکھیں اور نماز کے لئے اٹھ کھڑی ہوں (زیادہ سے زیادہ 20 منٹ تک جو کہ اقامہ ٹائم بھی ہے) ہمارے آقا ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ الله تعالٰی کے نزدیک سب سے محبوب عمل کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا نماز کو اس کے اولین وقت میں ادا کرنا. 

بھائیوں_کےلئے: جیسے ہی آپ اذان کی آواز سنیں فوراً وضو کریں اور مسجد چلے جائیں. اپنے آپ کو یہ آیت بار بار یاد دلاتے رہیں 

وَعَجِلتُ اِلَیکَ رَبِّ لِتَرضٰی”(سورۃ طٰهٰ۔85) 

ترجمہ:

(اے پروردگار میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تا کہ تو خوش ہو)

Leave a Comment